جب حق پر ہو تو تقدیر کے فیصلوں سے کیا گھبرانا

1/2/20261 min read

white concrete building during daytime
white concrete building during daytime

حق کی طاقت

حق کی طاقت ایک ایسی طاقت ہے جو انسانوں میں عزم و ہمت پیدا کرتی ہے کہ وہ اپنی اصولوں کی پیروی کریں اور اس راستے پر ثابت قدم رہیں۔ جب لوگ حق کو اپنا رہنما بناتے ہیں، تو وہ مشکلات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں، چاہے حالات کتنے ہی بد سے بدتر کیوں نہ ہوں۔ حق کی پیروی کے نتیجے میں انسانوں کی زندگی میں ایک گہرائی اور معنی پیدا ہوتا ہے، جو عام طور پر زندگی کی روایات سے بالاتر ہوکر ایک اعلیٰ مقصد کی جانب رہنمائی کرتی ہے۔

حق کی طاقت کے بہت سے مظاہر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ مثال کے طور پر، تاریخ میں بہت سے مصلحین اور انسانی حقوق کے علمبرداروں نے ایسی چیلنجز اور رکاوٹوں کا سامنا کیا جو ان کی راہ میں حائل تھیں۔ لیکن ان کی ثابت قدمی اور حق کی جانب ان کی لگن انہیں کامیابیاں دلانے کے لیے بڑی آواز بنی۔ یہ دکھاتا ہے کہ حق کی طاقت محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک گہری حقیقت ہے، جو انسانی روح کو جلا بخشتا ہے اور ایک نئی زندگی کا آغاز کرتا ہے۔

زندگی کا گزارنے کا طریقہ حق کے اصولوں کی روشنی میں نبھانا صرف اخلاقی ذمہ داری نہیں، بلکہ یہ ایک عملی انتخاب بھی ہے۔ جب انسان حق کی طرف چلتے ہیں تو وہ نہ صرف اپنے آپ کو بلکہ معاشرے کے دیگر افراد کو بھی بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس طرح، حق کی طاقت دراصل دیگر لوگوں کے دلوں میں بھی امید کا سامان پیدا کرتی ہے اور انہیں بھی حق کی راہ اختیار کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ اس عمل میں انسان نہ صرف اپنے لیے جیتتا ہے، بلکہ پوری انسانیت کے لیے بھی ایک بہتر مستقبل کی تعمیر کرتا ہے۔

تقدیر کے فیصلے اور ان کا اثر

تقدیر ایک ایسا تصور ہے جو انسانی ذہن کو ہمیشہ سے مشغول کرتا آیا ہے۔ یہ ان فیصلوں پر مرکوز ہے جو انسانی زندگی میں قدرتی طور پر پیش آتے ہیں۔ تقدیر کے فیصلے، جنہیں عام طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرار دیے جانے والے فیصلے سمجھا جاتا ہے، انسان کی زندگی کو مختلف طریقوں سے متاثر کر سکتے ہیں۔ ان فیصلوں کی نوعیت کی جاچکی کئی وضاحتیں ہیں۔

اللہ پر ایمان رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں، اس کے پیچھے ایک عظیم راہنمائی موجود ہے۔ یہ سمجھنا انتہائی اہم ہے کہ تقدیر کو اللہ کی حکمت کا مظہر بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں انسان خود کو اختیار اور انتخاب کی حالت میں محسوس کرتا ہے۔ جبکہ تقدیر کی حقیقت تسلیم کرتے ہوئے، انسان اپنی کوششوں کے ذریعے اپنی زندگی کے مختلف پہلوؤں میں تبدیلی لا سکتا ہے۔

انسان اپنی تقدیر کو مختلف طریقوں سے تبدیل کرنے کی کوشش کرسکتا ہے۔ مثلاً، بہتر عمل، نیک نیتی، اور صبر کے ذریعے؛ یہ سب چیزیں تقدیر کے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ اگر انسان برائیوں سے دور رہتے ہوئے، اچھی نیت کے ساتھ کوشش کرتا ہے تو وہ درحقیقت اپنی تقدیر میں مثبت تبدیلیاں لا سکتا ہے۔ اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کی خاطر خلوص دل سے کی جانے والی کوششیں حقیقی تقدیر میں بہتری لا سکتی ہیں۔

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ تقدیر کے فیصلے نہ تو حتمی ہیں اور نہ ہی انسان کی عمل کی آزادی کو محدود کرتے ہیں۔ بلکہ یہ فیصلے انسان کی زندگی کے تجربات کو نئی سمت میں لے جانے کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ اس لیے، ایک مؤثر عمل کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا اور نیک عمل کرنا نہ صرف تقدیر کے فیصلوں کی نوعیت میں مددگار ثابت ہوتا ہے، بلکہ اس کے ذریعے انسان اپنی زندگی میں بارآور تبدیلیاں بھی لا سکتا ہے۔

گھبرانا نہیں، بلکہ عمل کرنا

زندگی میں ایسے بہت سے مواقع آتے ہیں جب انسان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ان مشکلات کو برداشت کرنا اور ان کا سامنا کرنا ہی دراصل انسان کی اصل قوت کا مظہر ہوتا ہے۔ یہاں ہم ان افراد کی کہانیاں بیان کریں گے جنہوں نے حق کی راہ پر چلتے ہوئے مختلف حالات میں کبھی بھی گھبرانے کا مظاہرہ نہیں کیا۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے عزم و ہمت کا دامن تھاما اور مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے اپنی تقدیر کو خود سنوارنے کی کوشش کی۔

کامیابی کی کہانیوں میں کئی مشہور شخصیات شامل ہیں جنہوں نے نہ صرف اپنی زندگی کی رکاوٹوں کو عبور کیا بلکہ قوم کی رہنمائی کا فریضہ بھی سرانجام دیا۔ مثال کے طور پر، ایک مشہور لیڈر نے جب اپنے ملک کی آزادی کی جدوجہد کی تو اس نے ہر قسم کی رکاوٹوں کا سامنا کیا لیکن کبھی ہار نہیں مانی۔ اس کا عزم، وہ جذبہ اور شجاعت حقیقت میں اس کی کامیابی کا ذریعہ بنے۔

اسی طرح کی کئی کہانیاں ہمیں سکھاتی ہیں کہ اگر ہماری نیت صیحح ہے اور ہم عزم کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں تو تقدیر کے فیصلے بھی ہمارے حق میں ہو سکتے ہیں۔ انسان کو گھبرانے کے بجائے عمل کرنے، جدوجہد جاری رکھنے اور ہمیشہ مثبت رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مشکلات کا سامنا کرنے والی ان کہانیوں میں ہمیں امید نظر آتی ہے کہ دلیری اور ثابت قدمی سے انسان اپنی تقدیر کو بہتر بنا سکتا ہے۔

یوں یہ کہنا بجا ہے کہ کامیابی کا سفر کبھی ہموار نہیں ہوتا، لیکن حق کی راہ پر چلتے رہنے سے ہمیں نئی راہیں ملتی ہیں۔ لہذا، ہمیں خود پر یقین رکھتے ہوئے عمل کرنا چاہیے، کیونکہ یہ عمل ہی ہے جو ہمیں کامیابی کی وادیوں کی طرف لے جاتا ہے۔

سولاں کی بندش اور اس سے نکلنے کی راہیں

زندگی میں کبھی کبھار ہمیں مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو کہ سولاں کہلاتی ہیں۔ مسلمان ہونے کی حیثیت سے، ایسے وقت میں ایمان، صبر اور استقامت کا مظاہرہ ضروری ہے۔ سولاں کے دوران، ایمان کا مستقل پیغام ایک طاقتور ہتھیار ہے، جو انسان کو حوصلہ دینے کے ساتھ ساتھ مشکلات کا سامنا کرنے کی ہمت فراہم کرتا ہے۔

مشکلات کا سامنا کرنے کے دوران، مسلمان کو خود پر اعتماد اور مثبت سوچ رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ ہمارے روزمرہ زندگی میں مددگار ثابت ہوتا ہے، خصوصاً جب ہم اپنی مشکلات کے متعلق گہرائی میں سوچتے ہیں اور ان سے سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہر سولاں ایک موقع ہے، جہاں ہم اپنی کمزوریوں کو پہچان کر طاقتور بن سکتے ہیں۔ اس طرح، مشکلات کو حوصلہ افزائی کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔

ایک اہم نقطہ یہ ہے کہ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ سولاں کے وقت ہمیں تنہا محسوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ مسلمان برادری ہمیشہ ایک دوسرے کی مدد کرتی ہے، اور اس میں شامل ہمدردی و ہم دردی کی طاقت بڑی ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی مشکلات کا ذکر کرے، تو اس کی مدد کی جا سکتی ہے، اور یہ مدد انسان کو اپنی سولاں میں ہمت دینے کے لئے ایک اہم راستہ بنتی ہے۔

یاد رکھیں کہ ہر مشکل کا ایک حل ہوتا ہے۔ جب ہم مشکلات کا سامنا کرتے ہیں، تو ہمیں اپنے دل کو ساکن رکھنا چاہیے اور اللہ پر توکل رکھنا چاہیے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم دُعائیں کریں اور اپنے نیک اعمال کی طرف توجہ دیں، تاکہ اللہ کی رحمت ہمارے ساتھ ہو اور سولاں آسان ہو جائیں۔

آخرت کی حقیقت اور دنیاوی خوف

دنیاوی زندگی میں انسان کا سامنا مختلف چیلنجز اور خوف سے ہوتا ہے۔ یہ خوف عموماً مادی چیزوں کے گرد گھومتا ہے جیسے کہ دولت، صحت، اور سٹیٹس کی کمی، اور انسان ان کے حصول میں اتنا محو ہو جاتا ہے کہ اپنی روحانی حقیقت کو بھول جاتا ہے۔ مگر یہ ضروری ہے کہ ہم یاد رکھیں کہ دنیا کی زندگی عارضی ہے اور اصل کامیابی آخرت میں ہے۔

آخرت کی حقیقت ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ دنیاوی چالاکیاں اور خوف عموماً عارضی ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالی نے دنیا کی زندگی کو " کھیل" اور " لہو" قرار دیا ہے، جو کہ انسانی روح کی حقیقی ضرورتوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ہمیں یہ علم ہونا چاہئے کہ ہماری اصل منزل بھی اسی یاد کا تعلق رکھتی ہے کہ ایک دن ہم سب کو اللہ کے سامنے جوابدہ ہونا ہے۔

ایمان کا مضبوط ہونا نہ صرف اخروی کامیابی کیلئے لازمی ہے بلکہ یہ دنیاوی مشکلات میں بھی انسان کو قابلِ برداشت بناتا ہے۔ جب ہم اپنے ایمان کو مضبوط کرتے ہیں تو ہم اللہ کی رضا پر بھروسہ کرنے لگتے ہیں، اور دنیاوی خوف ہمیں کمزور نہیں کر پاتا۔ کسی بھی مشکل وقت میں اگر ہم اللہ کی رحمت پر توکل کریں، تو ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ اللہ نے ہر وقت ہمارے ساتھ ہے۔

اس حقیقت کو سمجھنا ہمارے لئے نہایت اہم ہے کہ دنیاوی چیزوں کے خوف کے مقابلے میں اگر ہم آخرت پر توجہ دیں تو ہم دوسروں کے معاملات میں بھی بہتر فیصلے کر سکیں گے۔ زندگی میں آنے والے مصائب، ہمیں آزمانے کے لئے ہیں، تاکہ ہم اپنی روح کی حقیقت کو سمجھ سکیں اور اللہ کی طرف رجوع کریں۔

اٹھو، سوجے ہوئے مسلمانوں کی بیداری

مسلمانوں کی روحانی اور سماجی حالت میں سستی ایک بڑے چیلنج کی صورت اختیار کرچکی ہے۔ اکثر یہ محسوس ہوتا ہے کہ مومنوں کی کثیر تعداد میں ایمان کی جڑیں کمزور ہو رہی ہیں، جس کی وجہ سے وہ اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہو گئے ہیں۔ اس تناظر میں، مسلمانوں کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنی موجودہ حالت کا جائزہ لیں اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس کر سکیں۔

بھروسے کے ساتھ ان باتوں کی جانب توجہ دینی چاہیے جو انسان کو مضبوط ایمان کی طرف لے جاتی ہیں۔ اس کے لئے اہم یہ ہے کہ مسلمان اپنی روزمرہ زندگی میں دین کے اصولوں کو اپنائیں اور ان پر عمل کریں۔ اسلامی تعلیمات ہمیں بتاتی ہیں کہ ہم کس طرح اپنے ایمان کو مضبوط بنا سکتے ہیں اور اپنی کمیونٹی کی خدمت کر سکتے ہیں۔

تعلیم حاصل کرنا، اپنے ایمان کو سمجھنا اور وقت کی ضرورت کے مطابق عمل کرنا، یہ تمام چیزیں بیداری کی علامت ہیں۔ مسلمانوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ قرآن و سنت کی روشنی میں اپنی زندگیوں کو گزاریں اور اپنے حقوق و فرائض کو سمجھ کر عمل کریں۔ یہ بیداری انہیں دین میں مضبوطی بخشے گی اور انہیں دنیاوی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے قابل بنائے گی۔

بیداری کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ مسلمان ایک دوسرے کی مدد کریں اور اپنی کمیونٹی کے افراد کو ان کی ذمہ داریوں کے بارے میں آگاہ کریں۔ آگاہی کا یہ عمل اجتماعی طور پر بھی کیا جا سکتا ہے، مثلاً باہمی مشاورت، خطبات، اور دین کی تعلیمات کی نشر و اشاعت کے ذریعے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی قوت کو یکجا کر کے مقتدر قوتوں کے سامنے ایک مضبوط آواز بنیں۔

حاصل کردہ علم اور اس کا عملی اطلاق

علم انسانیت کی روحانی متاع ہے جو ہمیں زندگی کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے اور ان میں بہتری لانے میں مدد دیتا ہے۔ تاہم، علم کا حصول صرف ابتدائی مرحلہ ہے۔ اس علم کو عملی زندگی میں منتقل کرنا اور اس کے مطابق عمل کرنا واقعی اثرانداز ہوتا ہے۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ علم کی حقیقی اہمیت تبھی سامنے آتی ہے جب اس کا اطلاق ہماری روزمرہ زندگی میں ہو۔

عملی اطلاق کا مطلب صرف معلومات کا ہونا نہیں بلکہ ان معلومات کو عملی طور پر نافذ کرنا ہے۔ جب بھی ہم کسی بھی علم کو اپنی زندگی میں شامل کرتے ہیں، تو اس کے نتائج براہ راست ہمارے فیصلوں، طریقوں، اور رویوں پر پڑتے ہیں۔ مثلاً، ایک شخص جو صحت کے بارے میں علم حاصل کرتا ہے، اگر وہ اس علم کے مطابق درست غذا اور ورزش کی عادت اختیار کرتا ہے، تو اس کی صحت میں نمایاں بہتری آتی ہے۔ اسی طرح، کاروبار کے میدان میں اگر کوئی شخص مارکیٹ کے بارے میں علم حاصل کرتا ہے اور اس علم کی روشنی میں حکمت عملی بناتا ہے، تو اس کی کامیابی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

یہ کہنا ضروری ہے کہ علم کا فائدہ صرف کتابوں کے ذریعے حاصل کردہ معلومات تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کے عملی اطلاق سے ہی ہم اپنی اور دوسروں کی زندگی میں مثبت تبدیلیاں لا سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ علم کے ذریعے ہمیں وہ وسائل فراہم ہوتے ہیں جو ہمیں اپنی تقدیر کے فیصلوں کو بہتر بنانے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ اس لیے علم کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا اور اس کی بنیاد پر عمل کرنا انتہائی اہم ہے تاکہ ہم اس دنیا میں اپنے مقاصد کو حاصل کرسکیں۔